نیا بلاگ

فیس بُک، ٹوئٹر، ٹمبلر، انسٹاگرام، بلاگ۔ ان میں سے ایک باقی سب سے کچھ مختلف ہے۔ اُس کی نشاندہی کریں۔

بلکہ نہیں، ان میں سے اُس کی نشاندہی کریں جس کی کچھ افراد کے بقول موت واقع ہو چکی ہے۔

جیسن کوٹکی ایک نامی گرامی بلاگر ہیں، اور انہوں نے حال ہی میں کچھ یوں لکھا:

پچھلے چند سالوں میں بلاگ کا کہیں انتقال ہو چکا ہے۔ ۲۰۱۴ میں لوگ اس بات کا بالآخر ادراک کر سکیں گے۔ بلاگز یقیناً ابھی بھی اپنا وجود رکھتے ہیں، اور بہتیرے ایسے بھی ہیں جو انتہائی شاندار ہیں اور اگلے کئی سالوں تک اپنے وجود اور اپنی عمدگی کو برقرار رکھیں گے۔ لیکن بلاگز کا وہ لا محدود مقصد، یعنی معلومات کی ترویج اور اشاعت، جسے وہ پچھلی پوری دہائی سے انتہائی خوبی سے سر انجام دے رہے تھے، اب میڈیا کی ان متنوع اشکال کے سپرد ہو چکا ہے جو بلاگز سے مماثلت رکھنے کے باوجود بھی بلاگز قطعاً نہیں ہیں۔

بلاگنگ کی بجائے لوگ اب ٹمبلر پر پوسٹ کر رہے ہیں، ٹویٹ کر رہے ہیں، اپنے بورڈ پر چیزیں پِن کر رہے ہیں، ریڈِّٹ پر پوسٹ کر رہے ہیں، سنیپ چیٹنگ کر رہے ہیں، فیس بُک سٹیٹس اپڈیٹ کر رہے ہیں، انسٹاگرام استعمال کر رہے ہیں، اور میڈیم پر شائع کر رہے ہیں۔ ۱۹۹۷ میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے نوجوانوں نے آنلائن ڈائریوں کو تخلیق کیا، اور ۲۰۰۴ میں بلاگ بادشاہ تھا۔ آج نوجوانوں کی جانب سے (انسٹاگرام یا سنیپ چیٹ استعمال کرنے کے مقابلے میں) ایک بلاگ شروع کرنے کا اتنا ہی امکان ہے جتنا ان کے موسیقی کی سی ڈی خریدنے کا۔ بلاگز تو اب کئی بچوں کے چالیس سالہ والدین ہی کے قابل رہ گئے ہیں۔

کوٹکی کی پوسٹ پر ایک زیرک تبصرہ کرتے ہوئے جان سکالزی نے کہا:

اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جن لوگوں کو بلاگز کی ضرورت ہے یا ان میں دلچسپی رکھتے ہیں، اُن کے لیے بلاگ فائدہ مند نہیں ہو سکتا — بالکل ہو سکتا ہے۔ ایسے لوگ، جو لمبی پوسٹس لکھنا چاہتے ہیں، اپنے ذاتی برینڈ کے لیے ایک مستقل جگہ کے متمنی ہیں، اور (اہم بات) اپنی آنلائن موجودگی پر کہیں زیادہ مضبوط اختیار کے خواہشمند ہیں، ان کے لیے بلاگز کا کوئی حتمی متبادل موجود نہیں ہے۔

سو روایتی بلاگنگ کی کشش معدوم ضرور ہو رہی ہے، لیکن ابھی بھی یہ کوئی بیکار شے ہرگز نہیں ہے؛ اور یوں میرا بھی نیا بلاگ حاضر ہے۔1

ویسے میرے ذاتی خیال میں فیس بُک اور ٹوئٹر، اور دیگر سوشل میڈیا، بلاگنگ کے لیے خطرہ نہیں، بلکہ سہولت ہیں۔ خاص طور پر ٹوئٹر تو مجھے (اپنے دیگر فوائد کے علاوہ) لوگوں کے ہجوم کی تیار کردہ، دلچسپ بلاگ پوسٹس کی ایک عظیم فیڈ بھی لگتا ہے۔ ہاں البتہ ایک مخصوص فیڈ ریڈر میں اپنے پسندیدہ بلاگز کی ”پوسٹ گردانی“ کرنے کا لطف ہی اور ہوتا ہے۔ (جی ہاں، میں ابھی تک گوگل ریڈر کے بند کرنے پر گوگل سے سخت ناراض ہوں۔ وہ تو بھلا ہو کوما فیڈ کا جس کی شکل میں ایک اچھا فیڈ ریڈر دستیاب ہے۔)

بہرحال، بلاگنگ کی رحلت سے قطع نظر، یہ میرا نیا بلاگ ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ اس کا سفر کیسا گزرتا ہے۔


  1. میرا پرانا، ذاتی بلاگ—جہاں میں نے تقریباً آٹھ سال تک بلاگنگ کی اور اُس آزادی کا بھی تجربہ کیا جو اپنا بلاگ ہوسٹ کرنے اور پھر اس پر تحریریں لکھنے سے ملتی ہے—اب موجود تو ہے، لیکن ریٹائر ہو گیا ہے۔ نئے موضوعات پر لکھنے کے لیے مجھے مناسب یہی لگا کہ ایک نئے بلاگ کی شروعات کی جائے۔