ابّو

ابّو کافی عرصے سے علیل تھے، پھر بھی اُن کے انتقال کی خبر سب پر بجلی بن کر گری۔

”کیا کہہ رہے ہو؟“ میرے بڑے بھائی سمجھے کہ انھیں سننے میں غلطی ہوئی ہے۔

”میں کیا کروں، یار؟“ میرا چھوٹا بھائی رو رہا تھا۔

”اُن کی طبیعت جب خراب ہوتی تھی، وہ ہمیشہ ہمیں بتا دیا کرتے تھے۔ اِس مرتبہ تو انھوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا۔“ ابّو کے تمام دوست بےیقینی کے عالم میں تھے۔

”آپ تو صبح دفتر میں ہی تھے؟“ میرے دفتری ساتھی مجھ سے پوچھتے رہے۔

”یقین نہیں آتا۔ ابھی کل ہی اُن سے بات ہوئی تھی، وہ تو بالکل ٹھیک تھے۔“ بےشمار لوگوں نے تعزیت کا آغاز انھی فقروں سے کیا۔

یقین تو مجھے بھی نہیں آتا۔ میں ہر صبح اُن کے کمرے کی جانب بڑھ جاتا ہوں تاکہ زیرو کا بلب بُجھا سکوں، اُن کی عینک اور دن کا اخبار انھیں دے سکوں، اور اُن کا فون چارجنگ پر لگا سکوں۔ اب اُن کے کمرے میں زیرو کا بلب، اُن کی عینک اور فون، اور دیگر چیزیں تو رکھی ہیں، لیکن وہ خود موجود نہیں ہیں۔ روزانہ دفتر سے واپسی پر ابّو مجھ سے ایک ہی سوال پوچھتے تھے، ”ہاؤ   واز   یور   ڈے؟ گُڈ؟1 الحمدُ للّٰہ!“ نجانے کتنی مرتبہ دفتر میں ایک بیزارترین دن گزارنے کے بعد بھی وہ سوال اور ابّو کا خوشگوار لہجہ سُن کر میں سرشار ہو جایا کرتا تھا۔ اب سوچ کر وحشت ہوتی ہے کہ مجھ سے یہ سوال کوئی نہیں پوچھے گا۔

مجھے تو اب یاد بھی نہیں ہے کہ شعوری اور لاشعوری طور پر کتنی باتیں ہیں جو میں نے ابّو سے سیکھی ہیں۔ الجبرا کے سوالات ہوں، کسی مضمون کی نوک پلک درست کرنی ہو، سکول کے لیے کوئی پروجیکٹ ہو، موٹربائیک چلانا سیکھنا ہو (ابّو اُس بائیک کو ”رانی“ کہا کرتے تھے)، کہیں کوئی انٹرویو ہو، خود باپ بننے کے بعد اپنے بچوں کا کوئی معاملہ ہو — میں ہر دفعہ رہنمائی کے لیے ابّو ہی کی طرف دیکھتا تھا۔ وہ ہم سب بہن بھائیوں کے پُرجوش cheerleader تھے، اور ہماری چھوٹی چھوٹی باتوں کی بھی بڑھ چڑھ کر تعریف کِیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ میں نے سورج گرہن کو دیکھنے کے لیے سادہ کاغذ کے ذریعے ایک پِن‌ہول پروجیکٹر بنایا، اور پھر اُس کے استعمال کی ایک سرسری سی ویڈیو بھی بنا ڈالی۔ ابّو کو وہ احمقانہ ویڈیو اتنی پسند آئی کہ اپنے سارے دوستوں کو بھیج دی۔ ابھی کچھ ہی ہفتے قبل میری بلند‌خوانی کی ویڈیو دیکھ کر اُن کی خوشی کا عالم ہی کچھ اور تھا؛ اسے نہ صرف اپنے دوستوں کے ساتھ شریک کیا، بلکہ اُن کے تعریفی تبصرے بھی مجھے بھیجتے رہے تاکہ مجھے مزید ویڈیوز بنانے کی تحریک ہو۔ ویڈیوز تو شاید بن ہی جائیں گی، لیکن ابّو اب اُن کو نہیں دیکھ سکیں گے۔

ابّو نے ساری عمر اپنے آپ کو مصروف رکھا۔ زمانۂ طالبعلمی میں کھیلوں اور دیگر سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے۔ پیشہ‌ورانہ زندگی میں آدھی دنیا کی سیر کر ڈالی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی مختلف جگہوں اور منصوبوں میں اپنے آپ کو مشغول رکھا۔ بیماری نے بستر تک محدود کر دیا تو تب بھی فیس‌بُک اور واٹس‌ایپ کے ذریعے سب سے رابطے میں رہے۔ کتنے ہی لوگ تھے جنھیں اُن کے انتقال کی خبر نہ مل سکی، جنھوں نے ابّو کو ”رمضان مبارک“ کے پیغامات بھیجے، اور جن کو جواباً مجھے بتانا پڑا کہ ابّو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ روایتی سی بات ہے لیکن سو فیصد سچ ہے کہ زندگی کا پہیہ یوں ہی چلتا ہے: ہم سب باری باری دنیا کی اس تماشاگاہ میں آتے ہیں، اپنا اپنا کردار نبھاتے ہیں، اور پھر چلے جاتے ہیں۔ پیچھے رہ جانے والے ہمارے پیارے اپنی باقی زندگی ہمیں یاد کرتے ہوئے گزار دیتے ہیں۔ میرے ایک دوست نے مجھ سے کہا تھا کہ والدین کی جدائی کا صدمہ کم تو نہیں ہوتا، لیکن عادت ہو جاتی ہے…

میں بھی اُس دن کے انتظار میں ہوں جب بالآخر مجھے عادت ہو جائے گی — اور جب شاید میرا ذہن تسلیم کر لے گا کہ ابّو چلے گئے ہیں۔


  1. “How was your day? Good?” [واپس]